ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پارلیمنٹ سیشن آج بدھ سے، نوٹ بندی کے خلاف اپوزیشن متحد؛ حزب اختلاف کے تیور نہایت سخت؛ ممتا کے مارچ میں شیوسینا بھی شامل

پارلیمنٹ سیشن آج بدھ سے، نوٹ بندی کے خلاف اپوزیشن متحد؛ حزب اختلاف کے تیور نہایت سخت؛ ممتا کے مارچ میں شیوسینا بھی شامل

Wed, 16 Nov 2016 04:03:37    S.O. News Service

نئی دہلی 16 نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) پانچ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹوں پر اچانک پابندی عائد کرنے کے بعد عوام کو ہونے والی غیر معمولی پریشانیوں اور اقتصادی سرگرمیوں میں کمی کے مد نظر تمام اپوزیشن پارٹیاں اب مودی حکومت کو گھیرنے کے لئے متحد ہوگئی ہیں،جس کی وجہ سے بدھ سے شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس نہایت ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے۔

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے ایک دن پہلے حکومت نے کل جماعتی میٹنگ بلائیاور ایوان میں حکومت کو گھیرنے کے لئے اوراپوزیشن کو متحد رکھنے کی مکمل تیاریاں کیں. واضح رہے کہ اس سے قبل ایوان کی کارروائی کو آسانی سے چلانے کے لئے پیر کو لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی کل جماعتی میٹنگ بلائی تھی.

بھلے ہی نوٹ بندی پرپوری اپوزیشن متحد ہے. لیکن حکومت نے صاف کر دیا ہے کہ وہ اپنے قدم پیچھے کھینچنے والی نہیں ہے، کیونکہ حکومت کو عوام کی بھرپور حمایت مل رہی ہے. وہیں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایوان میں پتہ چل جائے گا کہ کون کالا دھن رکھنے والوں کے ساتھ ہے.

اس درمیان کانگریس نے سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میٹنگ کا انعقاد کیا  جس میں حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کے لئے حکمت عملی اپنائی گئی. اپوزیشن پارٹیوں میں نوٹ بندی کے خلاف مہم میں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور ڈی ایم کے شامل رہیں، البتہ میٹنگ میں عام آدمی پارٹی، بیجو جنتادل اور انا ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کے نمائندے موجود نہیں تھے۔میٹنگ میں بتایا گیا ہے کہ  اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے معاملے پر بدھ کو ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کے ساتھ راشٹر پتی بھون تک مارچ نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بلکہ وہ اس سلسلے میں بعد میں فیصلہ کریں گی لیکن ممتا بنرجی اپنی پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ صدر سے ملاقات کریں گی۔ 

اپوزیشن پارٹیوں کی قریب ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے والی میٹنگ کے بعد کانگریس کے سنیئر لیڈر غلام بنی آزاد نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور ہم بدھ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے کو زور و شور سے اُٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے تمام متبادل ختم ہوجائیں گے  تو ہم صدرکے پاس جائیں گے۔ اگرپارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا ہوتا تو ہم صدر کے پاس جاتے لیکن پارلیمنٹ کا اجلاس چلنے پر ہم سب سے پہلے اس معاملے کوپارلیمنٹ میں اُٹھائیں گے اس لئے ایوان کے پہلے دن صدر کے پاس نہیں جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس اجلاس میں نوٹ بندي کے علاوہ ون رینک ون پینشن، کسانوں کی حالت زار، سرجیکل اسٹراِئیک، پاکستان کو لے کر پالیسی اور جموں کشمیر کی صورت حال کوپارلیمنٹ میں پوری شدت کے ساتھ اُٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک طرف مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹ بندی کے خلاف اپوزیشن متحرک ہو گیا ہے.اور اُن کے سامنے سوال اُٹھانے کے لئے کئی مدعے ہیں۔جس میں بینکوں کے باہر لمبی لائن اور نقدی کے چلتے عام لوگوں کی دقتیں کم نہیں ہو رہی ہیں. لوگ کاروبار اور مزدوی چھوڑ کر محض چار ہزار روپئے کے لئے لمبی لمبی قطاروں میں ٹہرنے پر مجبور ہیں۔ مدھیہ پردیش میں بینک اہلکار کا دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہونا. بہار میں کھلے پیسے نہ ہونے سے ہسپتال کا علاج کرنے سے انکار کرنا. علاج کی غیر موجودگی میں دو نوزائیدہ بچوں کا دم توڑ نا وغیرہ بہت کچھ شامل ہیں۔

اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے وزیر اعظم مودی سے نوٹوں کا معاملہ 30 نومبر تک درست کرنے کی اپیل کی ہے. ادھر، سی پی ایم نے 16 نومبر کو نوٹ بندي کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے. راہل گاندھی نے کہا ہے کہ نوٹ بندي کے بعد مودی کا حقیقت سے سامنا ہوا ہے. انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئےکہاہے کہ پہلے ہنسنے والے مودی اب اپنے آنسو بہا رہے ہیں. وہیں دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نے مودی پر نہایت ہی گھمبیر الزامات عائد کرتےہوئے بلیک منی کی لسٹ میں مودی بھی شامل ہونے کی بات کہہ چکے ہیں۔

ممتا کے مارچ میں شیوسینا بھی شامل ہوگی
 حکومت کے نوٹ بندي کے فیصلے کے خلاف ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کی طرف سے بدھ کو بلائے گئے مارچ میں  بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیوسینا نے بھی حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے منگل کو بتایا کہ ان کی پارٹی اس معاملے پر ممتا بنرجی کی قیادت میں صدر سے ملاقات کرے گی.

مودی حکومت پر ملک میں 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹوں کو چلن سے باہر کرنے کا فیصلہ کرکے ملک کے عوام کو بھکاری بنانے کا الزام لگاتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ بدھ کو اس مسئلے پر صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کریں گی، انہوں نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ اُن کے ساتھ دیگر پارٹیاں آتی ہیں یا نہیں آتی ہیں، وہ اس کا انتظار نہیں کریں گی۔ البہتہ انہوں نے متحد ہونے والی اپوزیشن کو اپنے ساتھ آنےکی دعوت ضرور دی ۔

 

 


Share: